Posts

کرؤنا وائرس عالمی دجالی ہتھیار

*چھوٹا دھماکہ، بڑا دھماکہ* کرونا وائرس اصل میں وہ چھوٹا دھماکہ ہے، جسکے بعد ایک بڑا ۔۔۔ بلکہ آخری دھماکہ ہوگا _ اصل میں اس وائرس کے زریعے، تمام دنیا میں اسکی ویکسین لگوانا لازمی قرار دے دیا جائے گا _ آپ بغیر ویکسین لگوائے اور سرٹیفیکیٹ حاصل کیے ہوئے، نہ ہوائی سفر کرسکیں گے، نہ حج و عمرہ، نہ زیارتوں کو جا سکیں گے ، یہاں تک کہ نکاح نامہ یعنی شادی بھی نہ ہوسکے گی _ بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا _ اس کام میں پہلے سے شامل بل گیٹس جیسے مخیر حضرات دل کھول کر غریب ممالک کی امداد کریں گے _ اب آپکی شاید سمجھ میں یہ بھی آ جائے ، کہ ایک کمپیوٹر سافٹویئر کی صلاحیت رکھنے والے دنیا کا امیر ترین شخص، اپنا کام چھوڑ کر ویکسین کی فیلڈ میں کیوں گھس گیا تھا اس کام میں پانچ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے _ مگر اسکے بعد تمام لوگوں کی رگوں میں یہ ویکسین دوڑ رہی ہوگی، یوں سمجھیں کہ ایک سرکاری وائرس دوڑ رہا ہوگا ، جسے کبھی بھی، کسی بھی طرح سے متحرک کیا جاسکے گا _ کبھی بھی کہیں بھی کوئی وبا پھیلائی جاسکے گی، اور کم خرچ اور بالا نشین انداز سے ایسا حملہ کیا جاسکے گا، کہ جس میں نہ ہتھیار استعمال ہونگے ، نہ املاک ک...

مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

Image
امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے بعد اگر کسی شخصیت کی کتب کو سب سے زیادہ پڑھا تو وہ مفسر شہیر مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ ہی ہیں, {تین رمضان شریف آپ کا یوم وصال ہے ایصال ثواب کر کے برکت حاصل کریں} انکی جو کتاب اٹھائیے لاجواب , بے مثال, مفتی صاحب , کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اپ نے 10 سال کی عمر میں سیدی اعلحضرت کا دیدار فرمایا تھا اور اعلحضرت کے خلیفہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کے خاص شاگرد تھے ویسے تو انکی زندگی پر مبسوط تحریر لکھی جاسکتی ہے مگر اہل علم کے شوق کے لئے اج انکی کتب کے بارے میں مختصرا کچھ عرض کیا جائے گا تاکہ شوق مطالعہ کی ھوس اور آگ کبھی ٹھنڈی نہ ہو 1. تفسیر نعیمی اشرف التفاسیر تاریخی نام تھا جس سے 1363 ھ کا سال نکلتا ہے مفتی صاحب نے اس تفسیر کو 11 ویں پارہ کے اخری ربع تک مکمل کرچکے تھے پھر اسی دوران وصال فرمایا 2. علم المیراث  قانون وراثت پر عمدہ نصابی کتاب جو اپکی پہلی تصنیف تھی 3. جاء الحق و زھق الباطل مسائل اختلافیہ میں لاجواب مدلل کتاب تعارف محتاج نہیں , بد مذہبوں کی نیند اڑانے کے لئے کافی ہے 4. شان حبیب الرحمن اس میں ان ...

خلافت عثمانیہ

*ترکی میں اسلام پسندوں کے کارنامہ میں جب ترکی گیا تووہاں کی اصلاحی تحریک پرت در پرت کھلنا شروع ہوئی۔ترکی میں جہاں اعلی سطح کے عہدے داراں سے ملاقات ہوئی وہیں پر ہمیں عام لوگوں، شہریوں اور ائمہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ وہاں پر جاری اصلاحی کاموں کا علم ہونے لگا۔ ہمیں پتہ چلا کہ *وہاں پر عوامی آگہی اور شعور کا آغاز اصلاح و ارشاد سے تعلق رکھنے والے طبقہ سے ہواہے۔* ترک اسلام پسندوں نے دنیائے اسلام کو دو بڑے طوفانوں میں سنبھالا دیا ہے۔ پہلا اس وقت جب تاتاری یلغار نے عالم اسلام کے حصے بخرے کردیئے، دوسرا اس وقت جب مصطفی کمال کے فاشزم نے ترکی کو بے راہ روی، بے دینی اور آوارگی کا مرکز بنادیا تھا۔ مصطفی کمال کی مجہول الحال شخصیت کو اتاترک کا لقب ان شرائط کی بنیاد پر ملا تھا: *اسلامی شعائر کا خاتمہ* *اسلامی قانون کا خاتمہ* *ترکی معدنی ذخائر نہ نکال سکے* *اور نہ بحری ٹیکس لے سکے۔* مصطفی کمال کے دور میں اتنا جبر تھا کہ 40 سال قبل وہاں تعلیم کے لئے جانے والے ایک ڈاکٹر صاحب نے بتایا: وہاں کوئی نماز پڑھتا نظر آجاتا تو سیکولر حضرات ایکشن میں آجاتے۔ میں نے نماز پڑھنا چاہی تو دوستوں نے مشورہ دیا ...

بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہیں

*عیاش عربوں* کی عیاشی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے۔ *‏UAE* نے *دس ہزار* سے زیادہ پاکستانیوں کو *واپس* بھیجنے کا اعلان کر دیا *2020 ایکسپو* کینسل کردی گئی *سعودیہ* دنیا سے آئے مُلازموں کو واپس بھیج رہا ہے *آسٹریلیا* میں موجود تمام غیر ملکیوں کو زندہ رہنے کیلئے *5 ڈالر فی گھنٹہ* کام کرنا پڑ رہا ہے۔۔ *برطانیہ* میں غیر ملکی کاروباری اپنی معاشی تباہی کے بھیانک خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ *امریکی تیل* دنیا کی معلوم تاریخ میں پہلی بار *37- ڈالرز فی بیرل* بک رہا ہے۔ جی ہاں *37- ڈالرز فی بیرل۔* *یعنی جو امریکا سے 1 بیرل تیل خریدے گا ، امریکن اس کو 37 ڈالرز دیں گے* اِس *دنیا* کو اپنی *تین سو سال کی ترقی* کا بہت زعم تھا نا۔ *امریکہ یورپ* جنہوں نے اپنی *سپیس شیلڈ* تک بنائی ہوئی تھی، اُلٹے مُنہ گرے پڑے ہیں ایک *کرونا وائرس* نے اس دنیا کی ‏تین سو سال کی ترقی کو زیرو کر دیا۔۔۔ *آسمانوں* پر اُڑتے جہاز زمین پر اُتروا دیئے، *سمندر* بحری جہازوں سے صاف کر دئیے تیل کی کمائی پر پلنے والے جو کہتے تھے کہ *نا تیل ختم ہوگا، نا غربت آۓ گی*۔۔ اب انہیں کہنا کہ تیل پی لیں پانی کی جگہ!!!!!! ایٹم بم اور پتہ نہی...

ڈرامہ ارطغرل

تحریر : عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور *ڈرامہ ارطغرل:طالب علمانہ رائے* یاد رہے کہ اللہ و رسول کا ہی حلال، حلال ہے اور حرام، حرام ہے.. کسی بھی بندہ بشر کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی ذاتی رائے سے ان کے حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دے سکے. بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب ان کے متعلق زیادہ کھود کرید کی جائے اور گہرائی میں اترتے چلے جائیں تو حکم سخت سے سخت تر ہوتا چلا جاتا ہے، جیسا کہ ایک کنویں کے پانی کے متعلق کسی نے پاک نا پاک ہونے کی تحقیق کرنا چاہی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع فرما دیا.... ہمارے نزدیک اس معاملے کو بھی ایشو بنا کر اٹھانا عامۃ الناس کی پریشانیوں میں شدید اضافہ کرنا ہے. اس ڈرامے کو امت کی ایک بڑی تعداد دیکھ رہی ہے اور اس کے سبب وہ کثیر اسلامی فوائد حاصل ہو رہے ہیں جن کے لیے مذہبی تنظیمات اگر اربوں کھربوں بھی خرچ کریں تو شاید اتنے فوائد حاصل نہ ہو سکیں. اگر اس میں کسی جگہ کوئی ممنوع منظر وغیرہ آتا ہے تو امت کے کسی بھی فرد کے ذہن میں اس کو دیکھتے ہوئے قطعا یہ خیال نہیں آتا کہ وہ شرعا بھی درست ہے، وہ تو ازروئے ایمان شریعت کے حرام کو حرام ہی جانتا ہے. اس ...

علماء سوء اور علماء حق

*مساجد چند معروضات* پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور اس وقت مساجد میں نماز اور اتصال صفوف کے حوالے سے علماء کرام کے ما بین جو کشاکش چل رہی ہے، اس پر احباب کی چند نکات کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں. حکومت اور بعض علماء کرام کا کہنا تھا کہ کرونا کی وجہ سے مساجد مقفل کر دی جائیں اور نمازیں گھروں میں پڑھی جائیں، لیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب اور دیگر مسالک کے جید علماء کرام نے سٹینڈ لیا اور کہا کہ مساجد کھلی رہیں گی، یقیناً یہ ایک قابل تحسین امر تھا، جمہور عوام و علماء کرام نے اس موقف  کا ساتھ دیا،جس کی وجہ سے  حکومت کو بالآخر نہ چاہتے ہوئے بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مساجد میں نمازوں کا سلسلہ جاری رہا...  مزید یہ کہ وہ جمعے جو بند کر دیے گئے تھے جہد مسلسل کے سبب اب وہ بھی بحال  ہو گئے ہیں، نیز یہ کہ رمضان میں نماز تراويح بھی ہو گی...ورنہ لوگوں کا رمضان اللہ کے گھروں سے محرومی کی حالت میں گزرتا. اگر ایک مرتبہ لبرل حکمرانوں کے ہاتھوں خدا کے گھر مقفل ہو جاتے تو پھر یہ ایک ایسی مثال بن جاتی جو انہیں موقع بموقع مداخلت کا جواز مہیا کر دیتی.. لیکن انہیں اس معاملے میں ...

پاک فوج زندہ باد

Image
از قلم چوہدری نزیر خاں مئیو رائیونڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج دوپہر دو بجے کے قریب کوٹرادھاکشن روڑ راےونڈ کے مقام پر کرونا کیوجہ لگاے ھوے ناکہ پر اتفاقا جانا ھوا ۔وھاں پر پاک فوج ۔پولیس کے 12جوانوں کو کھانا دینے سرکاری گاڑی آئی۔وھاں پر موجود  جوانوں کو کھانے کے بارہ عدد ڈبے اور پانی کی بوتل دیں گئی۔ میں نے بچشم خود دیکھا کہ ان جوانوں نے صرف دو ڈبے کھانے کے رکھے اور دس عدد ڈبے اور پانی کی بوتلیں ایک بند دکان کے تھڑے پر رکھ دئیے۔تمام جوان ان دو ڈبوں میں سے چند نوالے لیکر کھانے لگے۔اور وھاں پر رکھے ھوے ایک دکاندار کے کولر سے پانی لیکر پیا۔ مجھے تجسس ھوا کہ کیا ماجرہ ھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد چند بزرگ اور خواتین آئی اور ایک ایک ڈبہ اور پانی کی بوتل لیکر خاموشی سے واپس چلے گئے۔ میں نے ادھر موجود ایک مقامی دودھ فروش سے اس بارے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ یہ سب جوان اپنے حصہ کا کھانا یہاں رکھ دیتے ہیں۔جو بھوکے پیاسے افراد لے جاتے ہیں اور یہ چند نوالے کھاتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی یہ جیب سے کھانے کا سامان لیکر یہاں رکھ دیتے ہیں۔جومستحق افراد خاموشی سے لے جاتے ہیں۔ اور صبح۔دوپہر۔شام کو روزانہ اسی طرح کی...