Posts

مولوی کو نکال دو

Image
"#مولویوں کو ملک سے نکال دو سکون ہوجائے گا"* "مولویوں کو دین کا کچھ پتا ہی نہیں ہے" #دین تو بڑا آسان ہے ان مولویوں نے اسے #مشکل بنادیا ہے "یہ مولوی دین کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں" "اب ہماری مولویوں سے کھلی جنگ ہے" آپ غور کیجیے گا یہ جملے کہنے والے لوگ صرف #جمعے کو، اور اکثر تو صرف #عید کے دن ہی وضو کرتے ہیں۔  اور ہمیں سکھا رہے ہیں کہ #دین کہاں سے آئے گا اس پر کیسے عمل ہوگا۔ الفاظ تھوڑے سخت ہیں لیکن اب حد ہوچکی ہے۔  جس کی خود حروف تہجی پڑھنے کی اوقات نہیں ہے وہ وقت کے #علماء و محدثین پر تنقید کر رہا ہے۔ بھائی #شیخ، #چوہدری، #فلاں، #فلاں #لبرل! تم کو پتا ہے #مولوی کون ہوتا ہے؟ جس نے اپنی زندگی کے نہیں بلکہ #جوانی کے وہ خوبصورت 11 سال، اگر حافظ بھی ہے تو 15 سال، اگر مفتی ہے تو 18 سال صرف اور صرف اللہ کے دین کو پڑھنے میں وقف کیے ہوئے ہوتے ہیں جو تم نے #عیاشیوں اور دنیا کی رنگینیوں میں گم کردیے_________! #اسکوپ کیا ہے مولوی کا اس معاشرے میں؟ دیا کیا ہے آپ نے مولوی کو جو #لینے پر تلے ہو؟  اپنے محلے کی مسجد، #مدرسے میں جا کر تو دیکھو کس حال میں رہ رہے ہ...

ولن ترضیٰ

Image
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی۔ 132ھجری میں جب بنو امیہ کے خلاف عباسی پروپگنڈہ کامیاب ہوا اور عباسیوں کو اقتدار ملا تو امویوں کے خلاف وحشت و بربریت کا بازار گرم کر دیا گیا ۔جنہوں نے عباسی تحریک کی حمایت کی یا انہیں قبول کیا وہ بچ گئے باقی اموی حکمرانوں کے اہل خانہ، حکام اور اعیان حکومت کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ۔اسی طوفان دارو گیر میں اموی خلفا کی قبریں اکھاڑ دی گئیں، ہشام بن عبدالملک جیسے خلیفہ کی لاش کو پہلے جلایا اور پھر سولی پر چڑھا دیا گیا ۔عباسیوں کی نفرت اور اندھے غضب سے صرف دو اموی خلفا کی قبریں بچ سکیں، ایک حضرت امیر معاویہ اور دوسرے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قبریں ۔ دو دن سے ملنے والی خبروں ، جو اب کئ سرکاری چینلز پر نشر ہو چکی ہیں، کے مطابق شام کے شہر ادلب میں بشار الاسد کی سرکاری فوجوں اور ایرانی ملیشیاوں نے اس خباثت کا مظاہرہ کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کو آگ لگائی،جہاں ان کے علاوہ ان کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک اور ان کے مولی کی قبریں بھی تھیں ۔ قبر وں میں سے لاشوں کی باقیات کو غائب کر دیا اور وہاں غلاظت پھینک دی ۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے، اسی سال جنو...

عمرثانی عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ

Image
وہ بنو امیہ کا شہزادہ تھااا،اس کی پوشاک دیکھنے کو اہلیان شہر امڈ آتے تھے وہ نازوں میں پلا ایسا شہزادہ تھا جو ایک جوڑا فقط ایک بار ہی پہنتا اور دوسری بار اس کے قریب بھی نہ جاتا وہ خوشبو بھی ایسی عمدہ لگاتا تھا کہ اہلیان جہاں فقط خوشبو کی عمدگی سے اسے پہچان لیتے وہ بنو امیہ کی شہزادی تھی جو اس کی زوجہ بنی۔۔ اس کے قصیدے شاعر یوں لکھا کرتے تھے: بِنْتُ الْخَلِیفَۃِ ، وَالْخَلِیفَۃُ جَدُّھَا أُخْتُ الخَلَائِفِ وَالْخَلِیفَۃُ زَوْجُھَا ’’وہ ایک خلیفہ کی بیٹی تھی، دوسرا خلیفہ اس کا دادا تھا۔وہ خلفاء کی بہن تھی اورایک خلیفہ اس کا خاوند تھا‘‘ امام علی طنطاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کے پاس بڑی مقدار میں سونا اور جواہرات تھے حتی کہ اس دور میں ان جیسے زیورات کسی عورت کے پاس نہ تھے" پھر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ بن گئے۔۔۔۔عوام الناس پچھلے خلفاء کی طرح عیاشیوں کی منتظر تھی اور وہ مرد حق منبر پر گرجا: "بنو امیہ نے جو بھی مال ضبط کیا،وہ واپس کر دیا جائے گا  سب سے پہلے میں شروعات کرونگا۔میرا تمام مال اور میری زوجہ "فاطمہ" کا تمام مال بیت المال میں جائ...

امام ابن جوزی

Image
عروس البلاد بغداد کی علمی ناقدری کا ماتم تحریر۔محمد حامد رضا چشتی(ایم فل،علوم اسلامیہ) زیر نظر تصویر عظیم محدث بےشمار کتب کے مصنف اور پانچویں صدی کے معروف عالم دین علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کے مزار اقدس کی ہے جو بغداد شہر میں دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع تھا۔ آج بغداد کے ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس مقام پر گاڑیوں کی پارکنگ کے لئیے جگہ بناتے ہوئے ظالموں نے انکی قبر کو مسمار کردیا میر تقی میر نے کہا تھا مت تربتِ میر کو مٹاؤ رہنے دو غریب کا نشان تو جب سے یہ خبر سنی طبیعت بےچین ہوگئ آہ ہم کتنے ناقدرے لوگ ہیں جس شخص کا علمی مقام یہ ہو کہ وہ کہے  ’’میرے زمانے تک رسول اکرم ﷺ سے روایت شدہ کوئی بھی حدیث میرے سامنے بیان کی جائے تو میں بتا سکتا ہوں کہ یہ صحت و ضعف کے کس درجے پر ہے ‘‘ اور جس شخص نے علوم قرآن کے متعلق تیسیر البیان فی تفسیر القران،فنون الافنان فی عیون علم القران،اور علوم حدیث کے متعلق جامع المسانید،التحقیق فی احادیث التعلیق ،اصول دین میں منہاج الوصول الی علم الوصول، علم فقہ میں العبارات الخمس،علم تاریخ میں المنتظم فی تاریخ الملوک والامم علم وعظ میں نسیم الریاض اور دیگر علوم و ف...

تخت داؤدی برطانوی بادشاہت کا راز

Image
آج ایک نئی چیز آپ کو دکھاتا ھوں۔ اس چیز پر پہلے کسی نے نہیں لکھا اور نہ آپ کی اس جانب کسی نے توجہ دلائی ھے۔ اس تصویر میں ایک جگہ ایک تخت پر ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی جا رھی ہے ۔ دوسری تصویر میں اس خالی تخت کی تصویر ھے اس تصویر میں میں نے تیر کے نشان سے ایک پتھر کی نشاندھی کی ہے جو اس کرسی یا تخت کے بالکل عین نیچے ہے یہ مقدس پتھر وہ ہے جس پر بٹھا کر حضرت داؤد علیہ السلام کی تاج پوشی کی گئی تھی اسے تخت داؤد کہا جاتا ھے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھیکل سلیمانی تعمیر کیا تو یہ پتھر دوسری مقدس اشیاء کے ساتھ ھیکل سلیمانی میں رکھا گیا۔ جب سنہ ء70 میں رومیوں نے فلسطین پر حملہ کیا تو لاکھوں یہودیوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ھیکل سلیمانی کو بھی گرا کر تباہ کر دیا، ٹائٹس نے یہی پتھر بھی ساتھ لیا اور اسے روم میں لا کر رکھ دیا روم کے بعد یہ پتھر آئرلینڈ لایا گیا آئرلینڈ سے سکاٹ لینڈ لایا گیا ، آئرش اور سکاٹش بادشاہ اسی مقدس پتھر پر بیٹھ کر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ سے یہ پتھر انگلینڈ لایا گیا ، انگلینڈ میں بھی برطانوی بادشاہ اسی تخت داؤد پر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے ھیں۔ یہ...

شہیدآزادی مولانا کفایت اللہ کافی

Image
اِنقلابِ 1857ء کا ایک ناقابل فراموش کردار بر عظیم کے کلاسک اُردو نعتیہ ادب کے معمار مولانا سیّد کفایت علی کافیؔ مرادآبادی رحمةالله عليه حضرت مولانا کفایت علی کافیؔ ایک معزز سادات خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباؤ اجداد مراد آباد کے قدیم باشندگان سے تھے۔ والد کا نام رحم علی تھا۔ سیّد کفایت علی کافیؔ کی پیدائش کا سنہ معلوم نہیں ہوسکا۔ ابتدائی تعلیم مراد آباد میں حاصل کی، پھر بریلی اور بدایوں میں تحصیل علم کے سلسلے میں رہے۔ حضرت شاہ ابو سعید مجددی (متوفی 1250ھ/ 1835ء) سے علم حدیث پڑھا۔ نیز مفتی ظہور اللہ انصاری فرنگی محلّی (متوفی 1256ھ/1840ء) سے بھی تلمذ حاصل کیا۔ حکیم شیر علی صدیقی احمد آبادی (متوفی 1256ھ/ 1840ء) سے فن طب اور ملک الشعرا شیخ مہدی علی ذکیؔ مراد آبادی (متوفی 1282-3ھ/ 1866ء) سے فن شاعری سیکھا۔  مولانا کافیؔ اپنے وقت کے جید عالم دین، اور فقیہ و مفتی تھے۔ علومِ متداولہ میں کمال حاصل تھا۔ طب، ادب، عروض، شاعری اور تاریخ گوئی میں میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ علمی فضائل کے علاوہ آپ کی ایک حیثیت مجاہد جنگ آزادی کی بھی ہے۔ مولانا کافی نے 1857ء کے جہادِ آزادی میں بھرپور ح...

ارطغرل غازی ہر تنقید کیوں؟؟

تحریر: حسیب اقبال طاہری (ارطغرل.......اعتراضات اور ان کے جوابات) آج کل ارطغرل ڈرامہ سیریل کی دھوم مچی ہے. اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 2014 میں بننے والی اس سیریز کو 6 سال میں 12 ملین لوگوں نے دیکھا اور پاکستان کے قومی چینل پر نشر کیے جانے کے بعد صرف 20 دن کے محدود عرصہ میں 15 ملین لوگ اس ڈرامے کو دیکھ چکے ہیں... ارطغرل کی تاریخی حقیقت اور اس نام کا معنی و مفہوم میں اپنی ایک سال پہلے لکھی گئی تحریر میں کر چکا ہوں جو سماجی ویب سائٹس پر کافی کامیاب رہی اور بہت سے لوگ اسے پڑھ کر مستفید ہو چکے ہیں... جہاں یہ سیریز کروڑہا لوگوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے وہیں بہت سارے فیس بکی مفکرین و مورخین کے اعتراضات و تحفظات کا سبب بھی بنی. اس سیریز پر سب سے پہلا اعتراض جو فیس بکی مورخین نے اٹھایا وہ یہ ہے کہ یہ سارا ڈرامہ افسانوی کرداروں پر مشتمل ہے جن کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ڈرامہ سیریل حقیقت سے ہٹ کر ہے. اگر ہم سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں ارطغرل غازی کے بارے میں ایک سے ڈیڑھ صفحات سے زیادہ نہیں ملے گا. لیکن یہ ب...