مفتی دارلافتاء صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ امام جامع مسجد نور مہتتم مدرسہ فیضان بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنمنٹ نکاح رجسٹرار و نکاح خواں۔ایم۔اے۔اسلامیات۔ایم۔اے۔عربک۔فاضل درس نظامی۔حافظ قاری۔مفتی عاطف محسن مئیو قادری مدنی
اِنقلابِ 1857ء کا ایک ناقابل فراموش کردار بر عظیم کے کلاسک اُردو نعتیہ ادب کے معمار مولانا سیّد کفایت علی کافیؔ مرادآبادی رحمةالله عليه حضرت مولانا کفایت علی کافیؔ ایک معزز سادات خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباؤ اجداد مراد آباد کے قدیم باشندگان سے تھے۔ والد کا نام رحم علی تھا۔ سیّد کفایت علی کافیؔ کی پیدائش کا سنہ معلوم نہیں ہوسکا۔ ابتدائی تعلیم مراد آباد میں حاصل کی، پھر بریلی اور بدایوں میں تحصیل علم کے سلسلے میں رہے۔ حضرت شاہ ابو سعید مجددی (متوفی 1250ھ/ 1835ء) سے علم حدیث پڑھا۔ نیز مفتی ظہور اللہ انصاری فرنگی محلّی (متوفی 1256ھ/1840ء) سے بھی تلمذ حاصل کیا۔ حکیم شیر علی صدیقی احمد آبادی (متوفی 1256ھ/ 1840ء) سے فن طب اور ملک الشعرا شیخ مہدی علی ذکیؔ مراد آبادی (متوفی 1282-3ھ/ 1866ء) سے فن شاعری سیکھا۔ مولانا کافیؔ اپنے وقت کے جید عالم دین، اور فقیہ و مفتی تھے۔ علومِ متداولہ میں کمال حاصل تھا۔ طب، ادب، عروض، شاعری اور تاریخ گوئی میں میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ علمی فضائل کے علاوہ آپ کی ایک حیثیت مجاہد جنگ آزادی کی بھی ہے۔ مولانا کافی نے 1857ء کے جہادِ آزادی میں بھرپور ح...
امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے بعد اگر کسی شخصیت کی کتب کو سب سے زیادہ پڑھا تو وہ مفسر شہیر مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ ہی ہیں, {تین رمضان شریف آپ کا یوم وصال ہے ایصال ثواب کر کے برکت حاصل کریں} انکی جو کتاب اٹھائیے لاجواب , بے مثال, مفتی صاحب , کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اپ نے 10 سال کی عمر میں سیدی اعلحضرت کا دیدار فرمایا تھا اور اعلحضرت کے خلیفہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کے خاص شاگرد تھے ویسے تو انکی زندگی پر مبسوط تحریر لکھی جاسکتی ہے مگر اہل علم کے شوق کے لئے اج انکی کتب کے بارے میں مختصرا کچھ عرض کیا جائے گا تاکہ شوق مطالعہ کی ھوس اور آگ کبھی ٹھنڈی نہ ہو 1. تفسیر نعیمی اشرف التفاسیر تاریخی نام تھا جس سے 1363 ھ کا سال نکلتا ہے مفتی صاحب نے اس تفسیر کو 11 ویں پارہ کے اخری ربع تک مکمل کرچکے تھے پھر اسی دوران وصال فرمایا 2. علم المیراث قانون وراثت پر عمدہ نصابی کتاب جو اپکی پہلی تصنیف تھی 3. جاء الحق و زھق الباطل مسائل اختلافیہ میں لاجواب مدلل کتاب تعارف محتاج نہیں , بد مذہبوں کی نیند اڑانے کے لئے کافی ہے 4. شان حبیب الرحمن اس میں ان ...
کیا عورت حیض کی حالت میں درود شریف پڑھ سکتی ہے؟ اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا کوٸی عورت حیض کی حالت میں درود شریف پڑھ سکتی ہے علماٸے کرام جواب عنایت کریں ساٸل ابوبکر صدیقی مھراجگنج یوپی ◆ــــــــــــ♦🌻♦ــــــــــ◆ وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ الجواب بعون الملک الوہاب عورتوں کو ایام میں مخصوصہ میں تلاوت قرآن و درود و اذکار کے متعلق الگ الگ احکام مذکور ہیں جیسا کہ ہدایہ میں *لیس للحاٸض و الجنب و النفسا ٕ قراة القرآن* حاٸض و نفاس اور جنبی کیلٸے قرآن کی قرأت کرنا جاٸز نہیں کیونکہ حدیث مبارکہ میں *لقولہ علیہ الصلوٰة والسلام لا تقرأ الحاٸض و لا الجنب شیٸاً من القرآن* حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا حاٸض و جنبی قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں اس حدیث کے تحت فقہاٸے کرام فرماتے ہیں کہ *تلاوت قرآن حرام ہے تلاوت کی نیت سے ذرا سا بھی نہ پڑھیں* لیکن جن آیتوں میں اللہ تعالی کی ثنا ٕ یا دعا کا مضمون ہو اگر ان کو قرأت کی ارادے سے نہ پڑھے بلکہ بطور ثنا ٕ یا کام شروع کرنے یا دعا و شکر کے ارادے سے پڑھیں تو جاٸز ہے مثلا شکر کے ارادے سے الحَمْدُ ِ...
This comment has been removed by the author.
ReplyDelete