مفتی دارلافتاء صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ امام جامع مسجد نور مہتتم مدرسہ فیضان بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنمنٹ نکاح رجسٹرار و نکاح خواں۔ایم۔اے۔اسلامیات۔ایم۔اے۔عربک۔فاضل درس نظامی۔حافظ قاری۔مفتی عاطف محسن مئیو قادری مدنی
تبلیغی اجتماع اور کرؤنا وائرس کا خطرہ
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
ملک پاکستان میں اس وقت تبلیغی جماعت کااجتماع جاری ہیں جو لاکھوں افرادپرمشتمل ہوتاہیں ملک بھر سے لوگ شریک ہوتے ہیں اور ایسے وقت کرونا وائرس دنیا ب
اِنقلابِ 1857ء کا ایک ناقابل فراموش کردار بر عظیم کے کلاسک اُردو نعتیہ ادب کے معمار مولانا سیّد کفایت علی کافیؔ مرادآبادی رحمةالله عليه حضرت مولانا کفایت علی کافیؔ ایک معزز سادات خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباؤ اجداد مراد آباد کے قدیم باشندگان سے تھے۔ والد کا نام رحم علی تھا۔ سیّد کفایت علی کافیؔ کی پیدائش کا سنہ معلوم نہیں ہوسکا۔ ابتدائی تعلیم مراد آباد میں حاصل کی، پھر بریلی اور بدایوں میں تحصیل علم کے سلسلے میں رہے۔ حضرت شاہ ابو سعید مجددی (متوفی 1250ھ/ 1835ء) سے علم حدیث پڑھا۔ نیز مفتی ظہور اللہ انصاری فرنگی محلّی (متوفی 1256ھ/1840ء) سے بھی تلمذ حاصل کیا۔ حکیم شیر علی صدیقی احمد آبادی (متوفی 1256ھ/ 1840ء) سے فن طب اور ملک الشعرا شیخ مہدی علی ذکیؔ مراد آبادی (متوفی 1282-3ھ/ 1866ء) سے فن شاعری سیکھا۔ مولانا کافیؔ اپنے وقت کے جید عالم دین، اور فقیہ و مفتی تھے۔ علومِ متداولہ میں کمال حاصل تھا۔ طب، ادب، عروض، شاعری اور تاریخ گوئی میں میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ علمی فضائل کے علاوہ آپ کی ایک حیثیت مجاہد جنگ آزادی کی بھی ہے۔ مولانا کافی نے 1857ء کے جہادِ آزادی میں بھرپور ح...
عروس البلاد بغداد کی علمی ناقدری کا ماتم تحریر۔محمد حامد رضا چشتی(ایم فل،علوم اسلامیہ) زیر نظر تصویر عظیم محدث بےشمار کتب کے مصنف اور پانچویں صدی کے معروف عالم دین علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کے مزار اقدس کی ہے جو بغداد شہر میں دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع تھا۔ آج بغداد کے ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس مقام پر گاڑیوں کی پارکنگ کے لئیے جگہ بناتے ہوئے ظالموں نے انکی قبر کو مسمار کردیا میر تقی میر نے کہا تھا مت تربتِ میر کو مٹاؤ رہنے دو غریب کا نشان تو جب سے یہ خبر سنی طبیعت بےچین ہوگئ آہ ہم کتنے ناقدرے لوگ ہیں جس شخص کا علمی مقام یہ ہو کہ وہ کہے ’’میرے زمانے تک رسول اکرم ﷺ سے روایت شدہ کوئی بھی حدیث میرے سامنے بیان کی جائے تو میں بتا سکتا ہوں کہ یہ صحت و ضعف کے کس درجے پر ہے ‘‘ اور جس شخص نے علوم قرآن کے متعلق تیسیر البیان فی تفسیر القران،فنون الافنان فی عیون علم القران،اور علوم حدیث کے متعلق جامع المسانید،التحقیق فی احادیث التعلیق ،اصول دین میں منہاج الوصول الی علم الوصول، علم فقہ میں العبارات الخمس،علم تاریخ میں المنتظم فی تاریخ الملوک والامم علم وعظ میں نسیم الریاض اور دیگر علوم و ف...
کیا عورت حیض کی حالت میں درود شریف پڑھ سکتی ہے؟ اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا کوٸی عورت حیض کی حالت میں درود شریف پڑھ سکتی ہے علماٸے کرام جواب عنایت کریں ساٸل ابوبکر صدیقی مھراجگنج یوپی ◆ــــــــــــ♦🌻♦ــــــــــ◆ وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ الجواب بعون الملک الوہاب عورتوں کو ایام میں مخصوصہ میں تلاوت قرآن و درود و اذکار کے متعلق الگ الگ احکام مذکور ہیں جیسا کہ ہدایہ میں *لیس للحاٸض و الجنب و النفسا ٕ قراة القرآن* حاٸض و نفاس اور جنبی کیلٸے قرآن کی قرأت کرنا جاٸز نہیں کیونکہ حدیث مبارکہ میں *لقولہ علیہ الصلوٰة والسلام لا تقرأ الحاٸض و لا الجنب شیٸاً من القرآن* حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا حاٸض و جنبی قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں اس حدیث کے تحت فقہاٸے کرام فرماتے ہیں کہ *تلاوت قرآن حرام ہے تلاوت کی نیت سے ذرا سا بھی نہ پڑھیں* لیکن جن آیتوں میں اللہ تعالی کی ثنا ٕ یا دعا کا مضمون ہو اگر ان کو قرأت کی ارادے سے نہ پڑھے بلکہ بطور ثنا ٕ یا کام شروع کرنے یا دعا و شکر کے ارادے سے پڑھیں تو جاٸز ہے مثلا شکر کے ارادے سے الحَمْدُ ِ...
Comments
Post a Comment